Arts

عقل اور دل

ایک دن عقل نے دل سے کہا
میں گمراہوں کے لیے رہنما ہوں۔

زمین پر ہوتے ہوئے میں آسمان تک پہنچ جاتا ہوں۔
دیکھو، میں کتنی گہری سمجھ میں ہوں۔

زمین پر ہدایت میرا واحد مشغلہ ہے۔
خضر 1 کی طرح میں کردار میں ہوں۔

زندگی کی کتاب کا ترجمان میں ہوں۔
خدا کے جلال کا مظہر میں ہوں۔

تم خون کا صرف ایک قطرہ ہو مگر۔۔۔
انمول روبی کی حسد میں ہوں’

یہ سن کر دل نے کہا یہ سب سچ ہے۔
لیکن مجھے بھی دیکھو، میں کیا ہوں؟

آپ زندگی کے راز کو سمجھتے ہیں۔
لیکن میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔

آپ کے ظاہری حکم سے متعلق ہے۔
اور باطن سے آشنا ہوں۔

سیکھنا آپ سے ہے، لیکن علم الٰہی مجھ سے ہے۔
تم صرف الوہیت تلاش کرتے ہو، لیکن میں الوہیت دکھا رہا ہوں۔

بے سکونی علم 2 کی انتہا ہے۔
لیکن اس بیماری کا علاج میں ہوں۔

تم حق کی مجلس کی شمع ہو۔
خدائی حسن کی محفل کا چراغ میں ہوں۔

آپ کا تعلق زمان و مکان سے ہے۔
سدرہ کو پہچاننے والا پرندہ 3 میں ہوں۔

میرے اسٹیشن کی شان دیکھو
میں خدائے بزرگ و برتر کا تخت ہوں۔

ایک آرزو

admin

Experienced content writer and SEO expert. Crafting engaging, optimized content to boost online visibility. Let's make your brand shine!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button